قیصر بارہوی

نام سید قیصر عباس زیدی المعروف قیصر بارہوی 16 جنوری 1928 کو بارہہ کی ایک بستی کیتھوڑا میں پیدا ہوئے۔ والد سید وزارت حسین زیدی کے زیرِ تربیت ابتدای تعلیم پائی۔ گیارہ برس کی عمر میں لکھنؤ آئے اور 1950 تک وہاں مقیم رہ کر مغربی تعلیم کے ساتھ علومِ مشرقی کی تحصیل بھی کی۔ علم عروض کو بھی سیکھا۔ 1938 میں شاعری کی ابتدا کی۔ شاعری میں نجم آفندی سے متاثر تھے ۔اور انیس کے بھی معتقد تھے۔1950 میں وہ 22 برس کہ عمر میں جب پاکستان آئے تو ادارہِ ترقیاتِ تھل میں انہوں نے گورنمنٹ کی ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ پنجاب کے مختلف شہروں میں رہے۔ پنجاب کے مختلف حصوں میں رہے تاہم 1969 میں ادارہ ترقیاتِ تھل ختم ہو جانے کے بعد انہیں ریونیو بورڈ کی تھل برانچ میں ملازمت مل گئی لہذا مستقل طور پر لاہور میں سکونت اختیار کی۔  آپ 26 دسمبر 1998 میں کراچی میں فوت ہوئے۔  جناب قیصر بارہوی نے تقریباً 85 /86 مرثیے کہے ۔جو مختلف مجموعوں میں بھی شائع ہوئے  1۔شبابِ فطرت (سات مرثیے)  2۔موج شہر  3۔عظیم مرثیے(بارہ مرثیے)  4۔منتخب مرثیے  5۔منفرد مرثیے  6۔معتبر مرثیے  7۔بارگاہ(قصائد کا مجموعہ)  9۔امتزاج(غزلوں کا دیوان)